سیال بناتا ہے
مادہ منویہ کا پانچواں سے تہائی حصہ پروسٹیٹ کا سیال ہوتا ہے — دودھیا، ہلکا قلوی، جس میں زنک، سٹریٹ اور اینزائم ہوتے ہیں۔ قلویت اہم ہے: یہ تیزابیت کو اتنی دیر روکتی ہے کہ اسپرم سفر کر سکیں۔
پاکستان میں اکثر مرد یہ لفظ پہلی بار ڈاکٹر کے منہ سے، انگریزی میں، ایسے جملے میں سنتے ہیں جو پوری طرح سمجھ نہیں آتا۔ تو پہلے سیدھی بات، اور پھر غدود کو ٹھیک سے کھول کر دیکھتے ہیں — اُس ایک تفصیل سمیت جو بتاتی ہے کہ چھوٹا پروسٹیٹ بڑے سے زیادہ تکلیف کیوں دے سکتا ہے۔
اردو میں یہ پروسٹیٹ غدود ہے۔ لفظ غدود کا مطلب gland ہے، اور بزرگ اور حکیم اکثر مردانہ غدود یا مثانے کے غدود کہتے ہیں — تشریحی طور پر ڈھیلی بات، مگر جگہ بالکل ٹھیک بتا دیتی ہے۔
دو اور لفظ کام کے ہیں، کیونکہ ڈاکٹر انہی سے بات کرے گا۔ مثانہ یعنی bladder۔ پیشاب کی نالی یعنی urethra، وہ نالی جس سے پیشاب گزرتا ہے۔ اس صفحے کی تقریباً ہر بات انہی تین چیزوں اور ان کی ترتیب کے بارے میں ہے۔
جب ڈاکٹر کہتا ہے کہ پروسٹیٹ بڑھا ہوا ہے، اردو میں یہ پروسٹیٹ کا بڑھ جانا ہے۔ اس کا مطلب کینسر نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ غدود بڑھ گیا ہے، جو چالیس کے بعد اکثر مردوں میں ہوتا ہے۔
مادہ منویہ کا پانچواں سے تہائی حصہ پروسٹیٹ کا سیال ہوتا ہے — دودھیا، ہلکا قلوی، جس میں زنک، سٹریٹ اور اینزائم ہوتے ہیں۔ قلویت اہم ہے: یہ تیزابیت کو اتنی دیر روکتی ہے کہ اسپرم سفر کر سکیں۔
PSA — وہی جو ڈاکٹر خون میں ناپتا ہے — دراصل وہ اینزائم ہے جو غدود مادہ منویہ کو جمنے سے روکنے کے لیے بناتا ہے۔ خون میں یہ صرف رِس کر پہنچتا ہے، اسی لیے سوزش، بڑھنے یا بیماری پر سطح بڑھ جاتی ہے۔
انزال کے وقت غدود کا نرم پٹھا سکڑ کر مثانے کی گردن بند کرتا ہے تاکہ مادہ آگے جائے، پیچھے نہیں۔ یہی پٹھا دباؤ میں کھنچتا ہے اور یہی الفا بلاکر ڈھیلا کرتے ہیں۔
مثانے کے نیچے۔ زیرِ ناف ہڈی کے پیچھے۔ مقعد کے آگے — اسی لیے ڈاکٹر انگلی سے اسے ٹٹول سکتا ہے، اور اسی لیے وہ معائنہ، جتنا بھی ناگوار ہو، سب سے تیز جانچ ہے۔
اور پیشاب کی نالی کے گرد لپٹا ہوا۔ یہی ڈیزائن کی خامی ہے۔ جسم کا ہر دوسرا غدود بغیر نتیجے کے بڑھ سکتا ہے کیونکہ اس میں سے کوئی اہم چیز نہیں گزرتی۔ پروسٹیٹ کے بیچ سے پیشاب کا راستہ گزرتا ہے، اس لیے یہاں بڑھنا یعنی نالی میں بڑھنا۔
بیس سال کی عمر میں یہ اخروٹ جتنا ہوتا ہے — تقریباً 20 گرام۔ تیس اور چالیس کی دہائی میں بڑھتا رہتا ہے اور رکتا نہیں۔ ستر سال کا آدمی 40 گرام یا زیادہ لیے پھر رہا ہو سکتا ہے۔
غدود یکساں نہیں ہے۔ اس کے تین الگ حصے ہیں، اور ان کا رویہ اتنا مختلف ہے کہ یہ جاننا کہ کون سا حصہ شامل ہے، آدھی بات بتا دیتا ہے۔
پیشاب کی نالی کے بالکل گرد ٹشو کا چھوٹا کالر۔ سادہ بڑھنا تقریباً ہمیشہ یہیں ہوتا ہے۔ چونکہ یہ براہِ راست نالی کے گرد ہے، یہاں چند گرام کا بڑھنا کسی اور جگہ کی بڑی گانٹھ سے زیادہ رکاوٹ ڈالتا ہے — اسی لیے پروسٹیٹ کا سائز اور علامات کی شدت آپس میں اتنی کم جڑی ہیں۔
غدود کا بڑا حصہ، پیچھے کی طرف مقعد سے لگا ہوا۔ پروسٹیٹ کے تقریباً 70 سے 80 فیصد کینسر یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ نالی سے سب سے دور ہے، اس لیے رسولی برسوں بڑھ سکتی ہے اور پیشاب کے بہاؤ کو چھوتی بھی نہیں۔ PSA ٹیسٹ کی پوری دلیل یہی ہے: خطرناک حصہ وہی ہے جو خاموش ہے۔
Transition zone کے پیچھے، اور انزالی نالیاں اسی سے گزر کر پیشاب کی نالی تک جاتی ہیں۔ یہاں کوئی مسئلہ کم ہی ہوتا ہے۔
سادہ بڑھنا اُس چھوٹے حصے میں ہوتا ہے جو نالی سے لگا ہے۔ کینسر اُس بڑے حصے میں ہوتا ہے جو نالی سے دور ہے۔ یعنی علامات بے ضرر مسئلے کی نشانی ہیں، اور خطرناک والا عموماً کوئی علامت نہیں دیتا — جو اکثر مردوں کے اندازے کے بالکل الٹ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ پچاس کے بعد ایک بار Rs 1,050 سے 3,300 میں PSA ٹیسٹ کرا لینا فائدے کا سودا ہے۔
تیس کیپسول، ایک مہینہ، Rs 10,900
پورے پاکستان میں مفت ڈیلیوری اور ادائیگی ڈیلیوری پر۔ پارسل بک ہونے سے پہلے ہمارا نمائندہ کال کرتا ہے۔
تیس کیپسول، ایک مہینہ، Rs 10,900۔ پورے پاکستان میں مفت ڈیلیوری۔
مثانے کے نیچے اخروٹ جتنا غدود جو مادہ منویہ کا زیادہ تر سیال بناتا ہے۔ اسے مردانہ غدود یا مثانے کے غدود بھی کہا جاتا ہے۔
تین کام۔ مادہ منویہ کا 20 سے 30 فیصد بناتا ہے، PSA بناتا ہے تاکہ وہ مائع رہے، اور انزال کے وقت اس کا نرم پٹھا مثانے کی گردن بند کرتا ہے۔
مثانے کے بالکل نیچے، زیرِ ناف ہڈی کے پیچھے، مقعد کے آگے، اور پیشاب کی نالی کے گرد لپٹا ہوا۔ آخری بات ہی وجہ ہے کہ بڑھنے پر پیشاب کی تکلیف ہوتی ہے۔
تین: transition، peripheral اور central۔ سادہ بڑھنا transition zone سے آتا ہے؛ زیادہ تر کینسر peripheral zone سے۔
جی ہاں۔ پروسٹیٹ کینسر کے آپریشن میں یہ پورا نکال دیا جاتا ہے اور مرد اس کے بعد معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کا بنایا سیال مادہ منویہ کا ضروری حصہ ہے۔