اویس صدیقی
کراچی · 58
رات کو تین بار اٹھتا تھا، اب ایک بار۔ نتیجہ اچھا ہے
یہ اُن آرڈروں سے آئی ہیں جو ہم نے بھیجے اور اُن کالوں سے جو بعد میں ہمارے نمائندوں نے کیں۔ تین ستارے والی رائے مردان کے ایک صاحب کی ہے، جن کی دھار میں فرق نہیں آیا اور جو سوچ رہے ہیں کہ قیمت بنتی ہے یا نہیں۔ ہم نے اسے رہنے دیا، کیونکہ صرف پانچ ستاروں والا صفحہ کچھ نہیں بتاتا۔
ہر رائے کے ساتھ لکھا ہے کہ کہنے والے کو کتنے ہفتے ہوئے تھے۔ ہفتے کا عدد ہی اصل بات ہے۔
12 تصدیق شدہ آرڈر
کراچی · 58
رات کو تین بار اٹھتا تھا، اب ایک بار۔ نتیجہ اچھا ہے
گوجرانوالہ · 47
دن میں بار بار جانا پڑتا تھا، اب کافی بہتر ہے۔ شکریہ
فیصل آباد · 61
ٹمسولوسن پر ہوں، ڈاکٹر سے پوچھ کر ساتھ شروع کیا۔ نیند اب پوری ہوتی ہے، پہلے نہیں ہوتی تھی۔
پشاور · 54
پہلے دو ہفتے کچھ نہیں لگا پھر بہتر ہوا۔ صبر چاہیے
حیدرآباد · 66
قطروں کا مسئلہ تھا، نماز کے وقت پریشانی۔ اب بہت کم ہے۔ اسی کے لیے لیا تھا
راولپنڈی · 49
گیارہ ہفتے ہو گئے۔ دھار پہلے سے بہتر ہے اور رات کو ایک بار۔ دوبارہ آرڈر کر دیا
لاہور · 52
قیمت زیادہ ہے لیکن لیبل پر سب ملی گرام کے ساتھ لکھا ہے۔ ہمدرد والے تو بتاتے ہی نہیں
کراچی · 57
بارہ ہفتے۔ نیند ٹھیک ہو گئی، میرے لیے اصل نتیجہ یہی ہے
اسلام آباد · 63
بندہ کال کرتا ہے، پتہ تصدیق کرتا ہے، اردو میں بات کی۔ دو دن میں پارسل آ گیا
سکھر · 60
سلاجیت گلگت کی ہوتی ہے، یہاں ٹیسٹ شدہ لکھا تھا اس لیے بھروسہ کیا۔ فائدہ ہوا ہے
ملتان · 55
خالی پیٹ لیتا تھا تو بھاری لگتا تھا، پھر ناشتے کے بعد لینے لگا۔ اب ٹھیک ہے
مردان · 51
رات کو فرق پڑا لیکن دھار وہی ہے۔ ڈیلیوری میں تین دن لگے، بتا دیتے تو بہتر تھا۔ قیمت کے حساب سے سوچ رہا ہوں
ہفتوں کے حساب سے ترتیب دے کر پڑھیں تو ایک ہی شکل ابھرتی ہے۔ پہلے دو ہفتوں میں کوئی خاص بات نہیں بتاتا۔ چوتھے سے چھٹے ہفتے کے آس پاس رات کے چکروں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ آٹھویں سے بارہویں ہفتے تک بات پیشاب کے بجائے نیند کی ہونے لگتی ہے — اور عموماً اسی مقام پر لوگ دوبارہ آرڈر کرتے ہیں۔
یہ اتفاق نہیں اور ہماری چنی ہوئی ترتیب بھی نہیں۔ تحقیق یہی پیش گوئی کرتی ہے: ہمارے نسخے کی واحد آزمائش جس نے پیشاب کی علامات کو ہلایا، اُس نے چھٹے ہفتے ہلایا، اور ہارمونی کام آٹھ سے بارہ ہفتے میں پڑھا جاتا ہے۔ یہی نظام الاوقات ہم نے پہلے صفحے پر اُس وقت لکھا تھا جب کسی نے پہلا کیپسول بھی نہیں لیا تھا۔
تین صاحبان نے چار ستارے دیے اور ایک نے تین۔ ان میں سے دو قیمت کی بات کرتے ہیں، اور بات میں وزن ہے: Rs 10,900، Rs 850 کی saw palmetto کی ڈبی سے کہیں زیادہ ہے۔ لاہور والے صاحب خود ہی وہ وجہ بھی لکھ دیتے ہیں جس کے لیے ہم یہ قیمت لیتے ہیں — ملی گرام لیبل پر ہیں۔
پارسل جانے کے تین سے بارہ ہفتے بعد ہمارے نمائندے ہر گاہک کو ایک بار فون کرتے ہیں۔ اگر وہ کچھ کہنا چاہے تو ہم اجازت لیتے ہیں کہ اسے پہلے نام، شہر اور عمر کے ساتھ چھاپ دیں۔ ہم رائے کے پیسے نہیں دیتے، اس کی زبان درست نہیں کرتے، اور کم تعریفی آرا حذف نہیں کرتے۔
تیس کیپسول، ایک مہینہ، Rs 10,900۔ مفت ڈیلیوری، ادائیگی ڈیلیوری پر، پہلے کچھ نہیں۔
ان بارہ اور تحقیق دونوں کے حساب سے: رات کے چکروں کے لیے چوتھے سے چھٹے ہفتے، باقی چیزوں کے لیے آٹھویں سے بارہویں۔ اگر پہلے ہفتے کی توقع ہے تو نہ خریدیں۔
نہیں۔ اوپر کے بارہ میں سے چار نے پانچ سے کم ستارے دیے، اور ان میں سے ایک کہتے ہیں کہ ان کی دھار میں فرق ہی نہیں آیا۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے جواب دینے کی زحمت کی — جن پر کچھ نہیں ہوا وہ اکثر واپس کال ہی نہیں کرتے۔ یہ آپ کو ابھی معلوم ہو، ڈبی آنے کے بعد نہیں۔
جی ہاں۔ نمائندہ کال پر خود پوچھے گا، یا کسی بھی وقت support@nixmen.org پر لکھ دیں۔ ہم پہلا نام اور شہر چھاپتے ہیں، نمبر یا پتہ کبھی نہیں۔